! میرے وطن میں یہ کیا ہو رہا ہے

یہ ہر طرف شور کیوں مچا ہوا ہے، لوگ ایک دوسرے کی گریبان کیوں پکڑرہے ہیں، کیا یہ لوگ ایک کرسی کے لیے لڑ رہے ہیں، ان میں سے کون حق اور کون باغی، کسی کو اس وطن کی پرواہ نہیں، ان کی  لڑائی میں لوگوں کا سکون بربادہو رہا ہے، کتنے مر رہے ہیں اور نہ جا نے کتنوں نے اور جانیں قربان کرنی  ہیں۔
یہ سیاسی لڑائی ہے،   اصولوں کی جنگ ہے یا پھر کسی بڑی شازش کا حصہ۔ نقصان کس کا ہو رہاہے، نقصان میرے ملک کا ہو رہا ہے، وہ وطن جو چلنے لگتاہے تو گر جاتا ہے، وہ جو چلناسیکھ رہاہے مگر اس کو چلنے نہیں دیا جاتا، میرے وطن کا المیہ یہ ہے کہ یہ جمہوری  اور امیر طاقتوں کی گود میں بیٹھا ہو اہے۔ ان دونوں کی آپس کی سینا زوری میں نقصان صرف معصوم کا ہو رہا ہے۔کرتے کرتے ساٹھ سال کے بعد جب جموریت نے اپنا حق جتا ہی لیا ہے تو پھر اب اس معصوم کو اس سے بھی چھینا جا رہا ہے اور چھیننے  والے کون ہیں وہ بھی سب لوگوں جانتے ہیں۔
ان سیاستدانوں کی جنگ نے اس پاک سرزمین کو انتشارکے سوا اور کچھ نہیں دیا، ایک گروہ  چند ہزار افرادکو اپنی ڈھال بنا کر ملکی سیاست پر حملہ کر دیتا ہے۔ صرف اس بات کو بنیاد بنا کر اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، کیا انصاف حاصل کرنے کایہ ہی طریقہ ر ہ گیا ہے اگر نہ ملے تو چھین لیا جائے،  تباہ و برباد کر دیاجائے، اگر ان  لوگوں کو اس طرح انصاف مل بھی گیا تو آج کے بعد  ٰس ملک کی عدالتیں گلی محلے میں ایک دوسرے کو طاقت دکھا کر لگا کرے گی، آج کے بعد جس کا دل چاہے گا وہ اپنے قانون بنائے گا اور اس کو طاقت سے منوائے گا اور و ہی انصاف ہو گا۔ ہم کون سی روایات کو جنم دے رہے ہیں، ابھی تو اس ملک نے اتنی ترقی بھی نہیں کی کہ یہ اپنے پاؤں پر کھڑاہو اسکے اور ہم اپنے ہی ہاتھوں سے اس کا گلاگھونٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔
                                                کوئی اور نہیں  اہے بس خنجر آزمائی ہے
             ہم ہی قتل ہو رہے ہیں اور ہم ہی قتل کررہےہیں
جمہوریت کو بچانے کے لیے ایک گروہ کے خلاف پارلیمنٹ کی جماعتیں ساتھہ کھڑی ہیں مگر دونوں  حریفوں میں کسی کی بھی جیت سے معاملات حل نہیں ہو ں گے  کیو نکہ   جیتنے والا ا پنی ماضی  کی کوہتائیوں کو دور کرنے کی بجائے اپنے غرور کے نشے میں اور زیادہ ڈوب جائے گا، جنگ اگر حق  اور باطل کی ہو تو غیب سے مدد آتی  ہے مگر افسوس یہ  ہے کہ ادھرحق پہ کوئی بھی نہیں ہے، دونوں طرف صرف طاقت دکھا رہے ہیں اور ان  کی جنگ میں مظلوم پس رہا ہے اس لشکر کو یہاں تک لانے کی  ذمہ دار حکومت  وقت خودہے  اور دوسری طرف اس لشکر کا انصاف مانگنے کی طریقہ بھی کسی بے انصافی سے کم نہیں۔ دنیا میں انقلاب کبھی اس طرح  نہیں آتے۔ یہ مظلوم عوام کو بیوقوف بنانے کا ذریعہ ہے۔
ہمارا اصل دشمن کوئی بیرونی طاقت نہیں، بلکہ ہم خود اپنے آپ کے دشمن ہیں، قائد کے دیے ہوے اس تحفے کے ساتھ آج تک کیا سلوک کیا   ہے، ہم خود اپنے آپ کے ساتھ مخلص  نہیں ہیں،اس ریاست کاہر محکمہ صرف اس کی وجہ سے بدنا م ہو چکا ہے کیونکہ اس میں ایسے لوگ موجود ہیں جو منڈی میں بیٹھے آڑھتیوں کی مانداپنے آپ کا دام لگا تے ہیں کہ آو ہمیں  خریدلو، ہم بکنے کوتیار ہیں صرف اپنے زیادہ منافع کی خاطر، اپنے وطن کی عزت  روند نے کے لیے تیار ہیں۔ ان بے ضمیراور نام کے عوامی خدمتگاروں کی وجہ سے لوگو ں کا اعتبار اداروں پر سے اٹھ گیا  ہے اورعوام سب کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
              یہاں تہذیب بکتی ہے یہاں فرمان بکتے ہیں
             ذراتم دام تو بولویہاں ایمان بکتے ہیں
ایس ایس  پی عصمت اللہ کو جس  بیدردی  سے مارا گیا اگر وہ لوگ اتنا جان لیتے کی اس مقام تک ایک ایماندار افسرکو پہنچنے  کے لیے کتنی راتیں قربان کرنی پڑی ہیں اور کتنے علم حاصل کرنے پڑتے ہیں تو شاید وہ لوگ اسکے قریب آنے سے بھی ڈرتے، مگر قصورلوگو ں کا نہیں اس ایس ایس پی کے  بدن پر چڑھی ہوئی وردی کا  ہے جو اس قدر بدنام ہو چکی  ہے کی فرشتہ بھی اس میں ہوتا تو وہ بھی اس ہی ظلم و ستم کا شکارہوتا۔
آخرکب تک ہم کسی مسیحا کا انتظار کرتے رہے گے،وہ بھی آخر کیا کر لے گا جب تک ہم اپنے اندر کی آگ کونہیں  بجھالیتے۔ ہمارے اندر جو حق اور باطل کی جنگ جاری ہے  اس میں  ہمیں باطل کو ہراناہو گا، ہم اپنے اندر جنگ جیت لیتے ہیں تو اس وطن کی جنگ بھی جیت لیں گے او ریہ  ہر دلعزیزملک دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گاکہ دنیا دیکھے گی۔  ہمیں پاکستان کے ساتھ مخلص ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ملک ہمارے بزرگوں کی بمثال قربانیوں  کے بعد حاصل ہوا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاکستان کو ہمیشہ اپنی حفظ وامان میں رکھے۔آمین
                                                                                   خدا کرے کے میری عرض   پاک پے اترے
                                                                                           وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s