سکون کیا ہے؟

میں نے آج تک نہ معلوم   کہاں کہاں سکون کو تلاش کیا  ہے۔ ہر بار کوئی نہ کوئی خلش باقی رہی۔ نیند میں، کتابیں پڑھیں  یا صدقہ خیرات دے کر دیکھ لیا۔ ہمیشہ ہی  اتنی سعی کے باوجود  یہ خیال باقی رہا کہ سکون نہیں ملتا۔

ایک روز یوں ہی بیٹھی تھی کہ دل عجب سے گھبرانے لگا ۔ یہ خیال رہا کہ شاید سکون کی تلاش میں ہی تویہ بے سکونی نہیں؟  سمجھ سکی اور نہ  ہی سمجھا پائی  کہ آخر کو مسئلہ کیا تھا؟

امی ابو سے ذکر کیسے کروں، یہ بھی کبھی سمجھ نہ  آیا۔ دنیا جہاں کی باتیں کروا لو  پر کچھ معاملات ایسے ہیں کہ ان  پر آ تے ہی زبان گنگ  ہو جاتی ہے ۔ سکون، انھی معاملات میں سے ایک تھا۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟

اب تو حالت یہ ہوئی کہ کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا۔ پڑھنے کا سوچو تو دل گھبراتا، بس خالی بیٹھے دیوار کو تکنے میں ہی بھلائی جانی۔

ایک روز یوں  ہی خیال آیا کہ کیوں نہ عبادت کا سہارا لیا جائے۔ اس سوچ کی دیر تھی کہ میں جائے نماز بچھا کر بیٹھ گئی۔ نماز پڑھتی گئی، سجدے پر سجدہ بجا لائے اوریہاں سکون کی وہ  مقدار تھی کہ، کسی کی صرف سوچ ہو گی۔

نہ معلوم کب سے اس کیفیت کا انتظار تھا۔ کیا نحوست تھی کہ پہلے کبھی نہ سوچا کہ نماز کو پانچ وقت ادا کرنے میں ہی سکون مل رہے گا۔

جائے نماز سے اتروں تو چند آنسو، اور ہلکا دل ۔یہ وہ لمحہ ہے جو ناقابل بیان ہے۔ بوجھل پن ایسے ہوا ہوا کہ اب چار سو سکون ہے۔ ہر شے دلعزیز لگتی ہے اور ہر کام میں لطف ہے۔

اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اب سکون کی تلاش نہیں۔ میں جانتی ہوں کہ سکون کیا شے ہے۔ سکون خدا کی راہ میں چلنے اور اس کی عبدیت کا نام ہے۔

! Really Thankful to Mr Omer Bangash for proof reading this article

Advertisements

4 thoughts on “سکون کیا ہے؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s